حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس پروقار تقریب میں خیبر پختونخوا کے ثقافتی، فنکارانہ اور سیاحتی شعبوں سے وابستہ اعلیٰ حکام، ادبی و ثقافتی شخصیات اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔

اس تقریب کا بنیادی مقصد تہذیبِ گندھارا اور فارسی تہذیب کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی و ثقافتی روابط کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے باہمی تعاون کے نئے امکانات اور راہیں تلاش کرنا تھا۔
اس موقع پر ثقافت، ادب، فنونِ لطیفہ اور سینما کے شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں، پروگراموں اور منصوبوں کے ذریعے دونوں تہذیبوں کے درمیان دیرینہ روابط کو مزید مستحکم اور فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
تقریب میں قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران پشاور علی بنفشہ خواہ، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور کے ڈاکٹر حسین چاقمی، ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم خیبر پختونخوا شاہد خان مہمند، ڈائریکٹر کلچر اینڈ ٹورازم محمد علی سید اور چئیرمین کریٹیو آرٹ ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا سجاد علی اورکزئی سمیت ثقافتی و فنکارانہ شعبوں سے وابستہ دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

پشاور اور پورا گندھارا خطہ تاریخ کے ان درخشاں ابواب کا امین ہے جہاں مختلف تہذیبوں، افکار اور فنون نے ایک دوسرے سے مکالمہ کیا اور انسانی تہذیب کے ارتقا میں اپنا کردار ادا کیا۔
اسی تاریخی پس منظر میں پشاور میں اس ثقافتی اشتراک کا آغاز ایران اور گندھارا کے درمیان موجود قدیم تہذیبی روابط کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے اور اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ماضی کی مشترکہ میراث، عصرِ حاضر میں تخلیقی اور تعمیری تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور خیبر پختونخوا کے ثقافتی و فنکارانہ اداروں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس اشتراک کے تحت ادب، موسیقی، مصوری، فنونِ لطیفہ، سینما، ثقافتی ورثے اور دیگر تخلیقی شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں کے انعقاد کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ بالخصوص گندھارا اور فارسی تہذیبی میراث کے باہمی تعارف، مشترکہ ثقافتی اقدار کی نشاندہی اور علمی و ادبی تبادلے کے ذریعے دونوں خطوں کے درمیان ایک بامعنی ثقافتی مکالمے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

تقریب میں محکمہء ثقافت و سیاحت خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام کی شرکت اس امر کی عکاس تھی کہ ثقافتی و فنکارانہ تعاون کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی سطح پر موجود امکانات اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کا تعاون نہ صرف دونوں جانب کے ثقافتی اداروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ فنکاروں، ادیبوں، دانشوروں اور ثقافتی کارکنوں کے لیے باہمی تبادلے اور مشترکہ تخلیقی سرگرمیوں کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔
تقریب کے اختتامی مرحلے میں حاضرین کے لیے اردو زبان میں ایرانی فلم "ملک سلیمان" کی خصوصی نمائش کی گئی۔ فلم کی نمائش اس ثقافتی اشتراک کا ایک اہم حصہ تھی، جس کے ذریعے سینما کے فن کو ثقافتی مکالمے کے وسیلے کے طور پر بروئے کار لایا گیا۔
اردو زبان میں پیش کی جانے والی اس فلم نے پاکستانی شائقین کو ایرانی سینما اور اس کے فکری و تہذیبی مضامین سے براہِ راست آشنائی کا موقع فراہم کیا۔

مجموعی طور پر یہ تقریب اسلامی جمہوریہ ایران اور خیبر پختونخوا کے درمیان ثقافتی و فنکارانہ تعلقات کے فروغ کی سمت ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اشتراک اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ تہذیبیں محض تاریخ کے صفحات میں محفوظ یادگار نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی حقیقی زندگی مسلسل مکالمے، تبادلے اور تخلیقی اشتراک میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
گندھارا کی سرزمین اور ایران کی عظیم تہذیبی میراث کے درمیان یہ نیا ثقافتی رابطہ مستقبل میں ادب، فن، سینما، ثقافتی ورثے اور دیگر تخلیقی میدانوں میں مشترکہ پروگراموں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ